ابنا: رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں سورہ مبارکہ روم کی ابتدائی آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: ’’أَوَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَیَنظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِن قَبْلِهِمْ‘‘ ھم لوگوں کے پاس ایک تماشا ہے اور ایک سبق و عبرت، تماشا تاریخ نگاروں اور رپورٹرس کی بنا پر ہے، تماشا اور اطلاعات علم نہیں ہے اگر کوئی تحلیل کر سکے اور اس کامیابی و ناکامی کو معین کرے یہ علم تاریخ ہے، اگر کوئی تاریخ کو جانتا ہے تو وہ عالم نہیں ہے بلکہ اس کو تجزیہ کرے، جہل سے عقل کی طرف حرکت اور غفلت سے بیداری کی طرف حرکت کی وجہ سے عبرت و سبق کا حصول ہوتا ہے اور خداوند عالم نے بہت سارے آیت میں بیان کیا ہے۔
انہوں نے آیہ شریفہ ’’أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنفُسِهِم مَّا خَلَقَ اللَّـهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَإِنَّ کَثِیرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا: یہ لوگ کیوں اپنے باطن کو نہیں دیکھتے ہیں اور اس کا جائزہ کریں کہ یہ حق ہے اگر عالم کا مقصد آوارہ گری ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر جان لے کہ یہ حق ہے اس نظام کے زمانی ہونے کا یقین کرینگے، اگر حق ہے تو عادل جزا حاصل کرے گا اور ظالم کے لئے سزا ہے۔
.....
/169